(1) تیرہ یادگار نصیحتیں

This post is also available in: English, French, Italian, Spanish, Indonesian, Malay, Portuguese (Brazil), Turkish

مولانا شیخ ناظم کی یومیہ صحبت

اعوذ بااللہ حمن االشیطان الرجیم

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ والبرکتہ

(یہ ابواب ان خاموش نصیحتوں کا چھوٹا سا حصہ ہیں جو مولانا نے مختلف مہمانوں سے گفتگو کے دوران فرمائیں تاکہ ہم صحت مند اور خوش گوار زندگی گزار سکیں۔ پہلا حصہ شروعاتی چار ابواب پر مشتمل ہے۔)

پہلا باب: قدرت سب سے بہتر ہے۔

زندگی میں قدرتی چیزیں استمال کرو۔ اپنی زندگی میں مصنوعی چیزیں لانا بدترین فغل ہے۔ قدرت کی طرف رجوع کرو اور انسان کی بنائی ہوئی ہر مصنوعی شے سے دور بھاگو۔

٭ مولانا نے مثال دی کہ کیسے وہ دن میں تین مرتبہ، صبح، دوپہر اور شام کو کڑوے سنگرے کا جوس پیتے ہیں۔ اور اس عادت کی وجہ سے انہیں کبھی بھی فلو/ بخار نہیں ہوا۔ جو شخص قدرتی پھل اور جوس کی عادت اپنا لے اسے کبھی کوئی بیماری تنگ نہیں کرے گی۔

٭ مولانا نے فرمایا کہ یہ اعلان پوری انسانیت کے لیے ہے کہ مصنوعی اشیاء چھوڑنے میں ہر انسان کی بھلائی ہے۔

تبصرہ:

٭ ان تمام معاملات میں قدرت کی طرف رجوع کریں جو انسان کے بس میں ہو۔

٭ اگر آپ کو خوراک استعمال کرنی ہے تو تازہ قدرتی خوراک استعمال کریں، پروسسڈ، ڈبوں میں بند یا محفوظ کی ہوئی خوراک ہرگز استعمال نہ کریں۔ جنسیاتی طور پر تبدیل کی ہوئی یا ہارمون ملائی ہوئی خوراک پرگز استعمال نہ کریں۔

٭ کھانا پکاتے ہوئے قدرتی اجزاء استعمال کریں۔ تباہ شدہ یا جنک فوڈ ہرگز استعمال نہ کریں۔

٭ فارماسوٹیکل ادویات کی بجائے قدرتی ادویات استعمال کریں۔

اس موضوع پر ایک پچھلی صحبت ملاحظہ کریں۔

  • چکی کی بجائے پارک میں سیر کریں۔
  • پلاسٹک کے نقلی پھولوں کی بجائے اصلی پھول گھر لائیں۔
  • مائیکروویو کی بجائے خوراک آگ پر گرم کریں۔
  • اے سی چلانے کی بجائے گاڑی کی کھڑکیاں کھلی رکھیں۔
  • میک اپ اور نیل پالش استعمال نہ کریں۔ سرمہ اور مہندی استعمال کریں۔

٭ حضرت محمد کے دور میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ایک ہمسایہ ملک کے بادشاہ نے آپ کی خدمت میں کچھ طیب بھیجے۔ مدینہ میں ایک لمبے عرصہ قیام کے باوجود بھی کوئی علاج کروانے نہ آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام ہمیشہ صحت مند رہتے تھے۔ اس صورتحال کا موازنہ آج کی دنیا سے کیجیے۔ جہاں ہسپتال لاکھوں جسمانی، روحانی اور ذہنی طور پر بیمار لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کتنے زیادہ لوگ ہیں جو سالہا سال پرانی بیماریوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔جس نے نہ صرف ان کی زندگی بدتر کر دی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی بوجھ بن گئے ہیں۔

٭یقینا ہماری خوراک، دوا اور ماحول کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اتنے لوگ بیمار ہیں، اور دوسری طرف دوائیوں والی کمیٹیاں اور ہسپتال کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ ہم یقینا اپنی زندگی میں غلطی کر رہے ہیں اور مولانا کی یہ سادہ سی نصیحت ایک صحت مند زندگی کی کنجی ہے۔

دوسرا باب: نئے والدین کے لیے نصیحت

٭ حاملہ ماؤں کو ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا چاہیے کیونکہ ادویات اور طبی تحقیقات (جیسا کہ الٹراساؤنڈ، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بچہ دانی سے نمونہ لینا وغیرہ وغیرہ) بچے کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کی وجہ سے معزور بچے پیدا ہو سکتے ہیں یا دوسرے مسائل مثلا دل میں سوراخ ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ مولانا کے پاس ایسے بچے لے کے آتے ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ ڈاکٹر نوزائیدہ بچوں میں ان بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ڈاکٹروں کے اس فعل سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور پیغبر ناخوش، اس لیے وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اس سے آگاہ کریں۔

٭ مولانا نے زور دے کر فرمایا کہ جب ایک عورت حاملہ ہو جاتی ہے تو اس جوڑے کو مندرجہ ذیل اقدامات کرنے چاہیے۔

  • سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور سیدنا نفیستہ تھوہیرہ رحمتج اللہ علیہ کی شان میں بھیڑ قربان کریں ( عید قربان کی طرح) اور غریبوں کو گوشت کے ساتھ کھانا کھلائیں۔ اس کے بعد یہ دونوں صوفی ماں کے رحم میں بچے کی نشوونما کے ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔
  • ماں کو دو تعویذ پہننے چاہیں ایک اپنے لیے اور ایک پیدا ہونے والے بچے کے لیے۔
  • جیسا بچہ دنیا میں آ جائے تو تعویذ اسے پہنا دے۔
  • روزانہ خیرات کریں ماں اور بچے دونوں کے نام پر۔
  • حاملہ عورتوں کو صرف دائی کو دیکھنا چاہیے، ڈاکٹر کو نہیں۔
  • ایک صحت مند بچے کی پیدائش کے لیے یہ کافی ہے، ڈاکٹروں کے پاس مہنگے اور غیر ضروری ہفتہ وار چیک اپ کے لیے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

٭ اس سال 24 فروری کی صحبت میں مولانا نے فرمایا تھا، ” جب آپ حاملہ ہوتی ہیں تو ڈاکٹر کے پاس مت جائیں، ایک دائی اس کے لیے کافی ہے۔ آج کل لوگ میرے پاس بہت زیادہ معذور بچوں کو لاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان مشینوں کی وجہ سے ہوتاہے جو ڈاکٹر ان کے پیٹ پر رکھتے ہیں اور جب یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے وہ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ” شیخ آفندی سنیے، دعا کیجیے یہ ٹھیک ہو جائے۔” ” اب جب آپ نے سب کچھ خراب کر لیا ہے تو میں اسے کیسے ٹھیک کرونگا۔” اب تو ڈاکٹر فورا یہ کہتے ہوئے مشین استعمال کرتے ہیں، ” اس کا پیٹ کاٹ دو”، بچہ جانتا ہوتا ہے کہ کہاں سے باہر آنا ہے: یہ وہیں سے باہر آئے گا جہاں سے داخل ہوا تھا۔ لیکن یہ سمجھائیں کیسے؟ کوئی نہیں سجھے گا۔”

تبصرہ:

ہزاروں سال تک عورتوں نے دایہ کی مدد سے بچوں کو جنم دیا۔اور مالش اور جڑی بوٹیوں سے ٹھیک ہو جاتی تھیں۔ آج بہت سے معاشروں میں یہ رواج قائم ہے۔ سیزارین ایک بالکل نیا طریقہ ہے جسے اسلام نے ناپسندہ قرار دیا ہے۔ اب بہت سی عورتیں اس طریقہ کو استعمال کر رہی ہیں کیونکہ وہ بچے کی پیدائش کی درد سے بچنے اور آسانی کے لیے اس کا انتخاب کرتی ہیں۔ اور کچھ تو اس لئے تاکہ بچہ ایک مقررہ تاریخ پر پیدا ہو۔

٭ سیدہ نفیستہ التھوبیرہ رحمہ اللہ علیہ کا مقام مصر میں ہے۔ وہ بہت ہی نیک اور مقدس زندگی کی حامل اہل بیت ہیں  ( جب آپ کے پاس وقت ہو ان کی کہانی پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔ یہ  کافی لمبا مضمون ہے) مصر کے لوگ ان کے مزار پر پورا سال حاضری دیتے ہیں اور خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں اور ان کے توسط سے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں  بیماری اور بخار سے نجات دے۔ لوگ اپنی نیتیں پوری ہونے پر مزار پر نظرانے بھی دیتے ہیں۔ مصریوں کے دل میں ان کی مسجد اور مقام کا ایک خاص مقام ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر نئے جوڑے کی شادی سیدنا نقیسہ کے مزار پرنہ ہو تو شادی مکمل نہیں ہوتی۔ مصری روزانہ ان کے مزار/ مسجد پر کامیاب شادی کیلئے دعا کرنے آتے ہیں۔

باب 3: نوٹس بنائیے اور صحبتوں کا مطالعہ کیجئے

شیخ اعظم اور مولانا شیخ ناظم

مولانا نے اپنے مہمانوں کو بتایا کہ جب شیخ اعظم عبداللہ خطاب فرمایا کرتے تھے تو وہ ہمیشہ ان کی باتیں لکھ لیا کرتے تھے تاکہ بعد میں اُن کو پڑھ سکیں اور اُن پر غور و فکر کر سکیں۔ اُس زمانے میں صرف پنسل اور کاغذ کلی موجودگی میں بھی اُنہوں نے ڈھیر سارے نوٹس بنا لیے تھے۔ مولانا نے آج کے مریدوں / مہمانوں کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا کہ اُن کے پاس ویڈیو اور اواز ریکارڈ کرنے والے آلات اور موبائل فون جو کہ صحبت ریکارڈ کر سکتے ہیں کے باوجود چند لوگ ہی اس کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔

تبصرہ:

٭       شاہ نقشبند الاویسی البخاری (رحمة اللہ علیہ) ہمارے طریقت کے امام نے فرمایا تھا، ”ہماری طریقة صحبت (اکٹھ) ہے اور اکٹھ میں برکت ہے“۔ شیخ عرفان کیانی نے بتایا کہ شاہ نقشبند نے یہ الفاظ اپنی زندگی میں 12,000 بار ادا کیے۔ یہ نمبر اس تعداد کے برابر ہے جتنی بار رسول اللہ نے معراج پر  تشریف لے گئے، ان تمام معراجوں میں سے صرف ایک معراج کا احوال عام آدمی کو بتایا گیا۔ شاہ نقشبند کی ہر صحبت رسول اللہ کے معراجوں میں سے کوئی ایک موتیٰ، کوئی ایک راز سکھاتی ہے۔

٭       کسی صوفی کا کسی اجتماع میں ادا کیا گیا ہر لفظ ایک قیمتی موتی کی طرح ہے۔ اپنے شیخ کی موجودگی میں ہمیں بھوکے انسان کی طرح ہونا چاہیے، ہر لفظ کو لکھتے ہوئے ہر اہم بات کو ذہن نشین کرنا چاہیے اور ہر راز کو اپنے سینے میں محفوظ کرنا چاہیے۔ کچھ آنے والوں کا یہ خیال ہے کہ مولانا ایک بوڑھا آدمی ہے جو جمہوریت اور الہامی سزاؤں کے بارے بے سرکی ہانکے جا رہا ہے۔ استغفراللہ! مولانا نہ تو پاگل ہیں اور نہ ہی سٹھیائے ہوئے ہیں۔ وہ ہر وقت ذہنی طور پر ہوشیار اور وہ جب حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ اپنے دل میں محفوظ لوح محفوط / رازوں کو افشا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے پیارے شیخ عدنان کی لکھی ہوئی کتاب اور مولانا کی تجویز کردہ کتاب، حقیقت حقانی، کے بارے میں شیخ اعظم نے فرمایا، ”شیخ ناظم ایک تجلی یا اللہ تعلیٰ کی روشنی ہیں جب وہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو وہ خود نہیں بول رہے ہوتے بلکہ یہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ خود مخاطب ہوتے ہیں۔”

٭       ہمارے مولانا کی موجودگی میں انتہائی ادب و احترام سے بیٹھنا چاہیے۔ ہمیں اپنی آواز نہیں بڑھانی چاہیے اور اُس وقت تک نہیں بولنا چاہیے جب تک کہا نہ جائے۔ ہمیں مذاق سے اجتناب کرنا چاہیے (کچھ لوگ شناسائی کے لیے ایسا کرتے ہیں) اور ہمیں زیادہ سوالوں اور زیادہ تعریف کر کے انہیں تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ اُنکی ہر حرکت، مزاح اور بیان میں مخفی معنی ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر بات لکھ لیں اور بعد میں اس پر غور کریں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ وہ بھی اُس وقت سمجھتے ہیں جب آپ واپس اپنے گھروں کو جا کر غور کرتے ہیں۔

باب 4: اس سال مریدوں کو حج / عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے

٭       مشرق وسطیٰ میں سیاسی عدم یقینا اور عدم استحکام کی وجہ سے مریدین کو اس سال حج و عمرہ کی اجازت نہیں ہے تاوقتیکہ مولانا کو اس حوالے سے مثبت اشارہ نہ مل جائے۔

تبصرہ

٭       جب میں 12 مارچ کو اُنہیں ملنے گیا تو میں نے بھی یہی سوال کیا تھا اور اُنہوں نے مجھے یہی جواب دیا۔ ہاں انہوں نے یہ کہا تھا کہ شاید رمضان میں اُنہیں اس کا واضح جواب مل جائے۔

٭       طریقت میں ادب یہ ہے کہ ہر معاملے میں ہدایت مانگی جائے۔ خاص طور پر لمبے سفر، شادی اور طلاق کے معاملے میں بہت سے مرید اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اجازت لیے بغیر ہی ٹکٹ اور بکنگ کروانے نکل پڑتے ہیں او کچھ تو بالکل بھی اجازت لینا پسند نہیں کرتے۔

٭       ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب امام مہدی (علیہ السلام) کا ظہور ہو گا تو عرفات میں قتل و غارت ہو گی تو اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم جانے سے پہلے اجازت طلب کریں۔ حالانکہ حج / عمرہ کرنا ایک نیک عمل ہے۔ دنیا میں ہونے والی قدرتی افات میں جیسا کہ سیاسی بے چینی، جاپان میں نیو کلیائی اخراج کی موجودگی میں نہ صرف حج / عمرہ کے لیے بلکہ کسی بھی سفر سے پہلے اجازت لینا عقلمندی ہے۔

(جاری ہے)

 

 


This entry was posted in 2011, صحبت and tagged , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.